header logo

انسان فنا ہوتا ہے، اس کی روشنی نہیں

انسان فنا ہوتا ہے، اس کی روشنی نہیں

ہر انسان کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جب جسم اپنی تمام تر توانائی کھو دیتا ہے۔ وہ ہاتھ، جو کبھی حوصلے اور عزم کی علامت تھے، لرزنے لگتے ہیں۔ وہ قدم، جو کبھی منزلوں کو اپنے تعاقب میں رکھتے تھے، تھکن سے بوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور وہ آواز، جو کبھی یقین کے ساتھ گونجتی تھی، آہستہ آہستہ ایک خاموش سرگوشی میں ڈھل جاتی ہے۔ ایسے میں دنیا سمجھتی ہے کہ شاید ایک انسان اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔


مگر دنیا اکثر جسم کو دیکھتی ہے، روح کو نہیں۔


یہ مٹی کا وجود یقیناً اسی مٹی میں لوٹ جاتا ہے جہاں سے اسے اٹھایا گیا تھا، مگر ہمت کبھی دفن نہیں ہوتی، محبت کبھی مرتی نہیں، اور سچائی کو کبھی زوال نہیں آتا۔ انسان کی اصل عمر اس کے سانسوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس روشنی سے ناپی جاتی ہے جو وہ دوسروں کی زندگیوں میں چھوڑ جاتا ہے۔


کسی بھوکے کو دیا گیا ایک لقمہ، کسی مایوس دل کو دیا گیا ایک حوصلہ، کسی بچے کو پڑھایا گیا ایک سبق، کسی مظلوم کے حق میں اٹھائی گئی ایک آواز، کسی اجڑے ہوئے دل میں جگائی گئی امید—یہ سب وہ چراغ ہیں جو اپنے جلانے والے کے بجھ جانے کے بعد بھی مدتوں روشنی دیتے رہتے ہیں۔


ہم چند برسوں کے مسافر ضرور ہیں، مگر ہمارے اعمال کی بازگشت صدیوں تک سنائی دے سکتی ہے۔ ہم انفرادی حیثیت سے ایک دن نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر ہم ان ذہنوں میں زندہ رہتے ہیں جنہیں ہم نے بیدار کیا، ان آزادیوں میں سانس لیتے ہیں جن کے لیے ہم نے آواز بلند کی، اس علم میں باقی رہتے ہیں جسے ہم نے نسلوں تک منتقل کیا، اور ان خوابوں میں دھڑکتے رہتے ہیں جنہیں ہم نے کسی اور کی آنکھوں میں روشن کیا تھا۔


شاید یہی ابدیت ہے۔


ابدیت یہ نہیں کہ انسان موت سے بچ جائے؛ ابدیت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے کہیں بڑی داستان کا حصہ بن جائے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک مختصر سی شمع ہے، مگر جب یہ شمعیں ایک دوسرے سے روشنی بانٹتی ہیں تو ایک ایسا چراغاں وجود میں آتا ہے جو صدیوں تک بجھتا نہیں۔


تاریخ گواہ ہے کہ نہ کوئی جابر اس روشنی کو بجھا سکا، نہ کوئی زندان اسے قید کر سکا، نہ ظلم کی کوئی رات اسے نگل سکی۔


یہی روشنی ایک ماں کی آنکھوں میں امید بن کر چمکتی ہے، جو ہر ناکامی کے باوجود اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتی ہے۔ یہی روشنی ایک استاد کے دل میں زندہ رہتی ہے، جو ہر روز کسی خام ذہن کو شعور عطا کرتا ہے۔ یہی روشنی ایک محقق کو سچائی کی تلاش میں بے قرار رکھتی ہے، ایک شاعر کو انسان کے دکھ کو لفظ عطا کرنے پر آمادہ کرتی ہے، ایک مزدور کو عزتِ نفس کے ساتھ رزق کمانے کا حوصلہ دیتی ہے، ایک کسان کو جلتی دھوپ میں بھی زمین سے زندگی اگانے پر مجبور کرتی ہے، اور ایک صاحبِ ایمان کو ہر اندھیری رات میں اپنے رب سے امید باندھے رکھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔


زمانے بدلتے رہے، سلطنتیں بنتی اور مٹتی رہیں، تہذیبیں ابھرتی اور بکھرتی رہیں، مگر انسان کے اندر جلنے والی یہ روشنی کبھی بجھی نہیں۔ اس نے لباس بدلے، زبانیں بدلیں، سرحدیں بدلیں، مگر اس کا جوہر ہمیشہ ایک ہی رہا: امید، وقار، سچائی اور استقامت۔


میں جانتا ہوں کہ ایک دن میرے قدموں کے نشان بھی وقت کی گرد میں گم ہو جائیں گے۔ ممکن ہے میرا نام بھی فراموش کر دیا جائے، میری کتابیں خاموش الماریوں میں سو جائیں، اور میری آواز ہوا کے سپرد ہو جائے۔


لیکن اگر میرے لفظوں نے کسی ایک دل میں امید جگا دی؛ اگر میرے علم نے کسی ایک طالبِ علم کی زندگی کا رخ بدل دیا؛ اگر میرے قلم نے کسی ایک انسان کو ناامیدی کے کنارے سے واپس زندگی کی طرف موڑ دیا؛ اگر میری جدوجہد نے کسی ایک شخص کو یہ یقین دلا دیا کہ شکست آخری حقیقت نہیں، تو میری زندگی رائیگاں نہیں گئی۔


کیونکہ انسان صرف جینے کے لیے پیدا نہیں کیا جاتا۔

وہ گواہی دینے کے لیے پیدا ہوتا ہے۔

گواہی اس بات کی کہ تاریکی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، ایک چراغ کافی ہوتا ہے۔

گواہی اس بات کی کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، سچائی اس سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔

گواہی اس بات کی کہ محبت نفرت سے زیادہ طاقت رکھتی ہے، علم جہالت سے زیادہ روشن ہے، اور امید مایوسی سے کہیں زیادہ پائیدار۔


جب میری آخری سانس اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہو، تو میری واحد آرزو یہی ہوگی کہ میں یہ امانت سلامت واپس لوٹا سکوں؛ کہ میں نے اپنے حصے کی روشنی کو بجھنے نہیں دیا، بلکہ اسے اپنے بعد آنے والوں کے ہاتھوں میں منتقل کر دیا۔


میں صرف ایک انسان نہیں۔

میں ہر وہ استاد ہوں جو ایک ذہن کو بیدار کرتا ہے۔

میں ہر وہ ماں ہوں جو ناامیدی کے مقابلے میں امید کا انتخاب کرتی ہے۔

میں ہر وہ مزدور ہوں جو پسینے کو عزت بناتا ہے۔

میں ہر وہ قلم ہوں جو سچ لکھنے سے انکار نہیں کرتا۔

میں ہر وہ دل ہوں جو ٹوٹنے کے باوجود محبت کرنا نہیں چھوڑتا۔

میں ہر وہ روح ہوں جو گر کر پھر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔


میں انسان ہوں۔

اور جب تک اس زمین پر ایک بھی دل امید کے ساتھ دھڑکتا رہے گا، ایک بھی ہاتھ خیر کے لیے اٹھتا رہے گا،

 ایک بھی زبان حق بولتی رہے گی، اور ایک بھی روح ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی رہے گی...

انسان کبھی شکست نہیں کھائے گا۔


وہ قائم رہے گا۔

غیر متزلزل۔

سربلند۔

اور اپنی روح کے جوہر میں...

ابدی۔


ریاض لغاری

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.