قابض حکمران طبقے کے نام آخری نوٹس: ریاست کی بازیابی کا اعلان
از قلم: ریاض لغاری
کسی بھی قوم کی سست اور اذیت ناک موت کا ایک ایسا لمحہ آتا ہے جہاں شائستہ زبان کسی اخلاق کا نہیں بلکہ صریح غداری کا نام بن جاتی ہے۔ پچھلی تقریبا آٹھ دہائیوں سے، 240 ملین انسانوں کو ادارہ جاتی بھتہ خوری کے ایک جونک نما معاہدے میں جکڑ رکھا گیا ہے۔ سن 1947 سے 2026 تک، سیاسی خاندانوں، بیوروکریٹک دلالوں اور خود ساختہ طاقتور حلقوں پر مشتمل اس خاندانی اور خود غرض ٹولے نے پاکستان کو ایک مقدس ریاست سمجھنے کے بجائے ایک مقبوضہ کالونی جانا ہے—ایک ایسی لاش جسے نوچ کر غیر ملکی کھاتوں میں بیچا گیا اور ہر بحران میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔
ان کے جرائم کا کھاتہ نہ تو پوشیدہ ہے اور نہ ہی اس پر کسی مباحث کی گنجائش ہے۔ یہ دیوالیہ قومی خزانے کے خون، لاکھوں سکولوں سے باہر بچوں کے مسقبل اور روٹی اور بجلی کے درمیان پسنے والے شہریوں کی خاموش بے بسی کی داستان ہے۔ انہتر برسوں سے اس شکاری طبقے نے لوٹ مار کا ایک نہ رکنے والا چکر چلا رکھا ہے۔ یہ ریاست پر ایسے ناقابلِ ادائیگی غیر ملکی قرضے لادتے ہیں جو بظاہر ترقی کے نام پر ہوتے ہیں لیکن دراصل کمیشن اور شاہانہ منصوبوں کی نذر ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے ظالمانہ ٹیکس نظام بناتے ہیں جو غریب محنت کش کی ہڈیوں تک کا رس نچوڑ لیں۔ یہ قومی خزانے کو کنگال کر دیتے ہیں مگر اپنی شوگر ملوں، رئیل اسٹیٹ ایمپائرز اور جاگیروں کو ٹیکس سے کلی طور پر بچاتے ہیں۔ جب خزانہ خالی ہو جاتا ہے تو یہ اپنے بیلٹ تنگ نہیں کرتے بلکہ آنے والی نسلوں کے نام پر مزید قرضہ اٹھاتے ہیں، کمیشن اپنی تجوریوں میں ڈالتے ہیں اور ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیتے ہیں۔
اور اس 240 ملین عوام کے خون، پسینے اور محنت کا کیا بنا؟ اسے باہر اسمگل کر دیا گیا۔ جب عام پاکستانی اپنے اسپتالوں کو تباہ ہوتے، اپنی کرنسی کو ڈوبتے اور بجلی کے بلوں کو تنخواہوں سے بڑھتے دیکھتے ہیں، تو یہ حکمران طبقہ ہزاروں میل دور عیش و عشرت کے محلات بنا چکا ہوتا ہے۔ یہ اپنی لوٹ مار لندن کے مئیفیر، دبئی کے بلند و بالا ٹاورز اور دنیا بھر کے خفیہ آف شور اکاؤنٹس میں چھپاتے ہیں۔ ان کی اولادیں—غیر ملکی دارالحکومتوں اور مغربی تعلیمی اداروں میں پلنے والا یہ مراعات یافتہ طبقہ—نجی طیاروں پر واپس آتی ہیں تاکہ اس ملک پر حکومت کرنے کو اپنا خاندانی حق سمجھیں۔ یہ وزارتوں اور سرکاری عہدوں کو خاندانی وراثت سمجھتے ہیں، جبکہ گھٹن کے مارے عوام کو "قربانی" اور "حب الوطنی" کا جھوٹا درس دیتے ہیں۔
اس اشرافیہ کا پھیلایا ہوا سب سے بڑا اور گھناؤنا جھوٹ یہ ہے کہ ان کے بغیر یہ ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ یہ طوفان اور انارکی کا خوف دکھا کر ریاست کو مستقل یرغمال بنائے رکھتے ہیں، جبکہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ گاڑی کو کھائی میں گرانے والے یہی ہوس کے پکاری اور نالائق لوگ ہیں۔ حقیقت کو اب پوری صفاّئی کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے: پاکستان کسی بورڈ روم، خاندانی گھرانوں یا مراعات یافتہ جاگیرداروں نے نہیں بنایا تھا۔ یہ 1947 میں صفر سے بنایا گیا تھا—بغیر سرمائے، بغیر مرکزی بینک اور بغیر کسی انتظامی سہارے کے—یہ عام مہاجرین اور شہریوں کی ان تھک محنت، قربانی اور اس غیر متزلزل عزم سے بنا تھا جو ایک آزاد اور خوددار وطن کا خواب دیکھ رہے تھے۔
اس جمہوری ریاست کو کسی سیاسی جونکوں، خاندانی وارثوں یا خود ساختہ آقاؤں کی ضرورت نہیں ہے جو قومی خزانے کو اپنا ذاتی اے ٹی ایم سمجھتے ہوں۔ اب بات چیت اور مکالمے کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ یہ ریاست کی بازیابی کا آخری اور حتمی نوٹس ہے: اپنا بستر گول کرو، راستہ چھوڑ دو اور اس سرزمین سے دفع ہو جاؤ۔ اپنے آف شور اثاثے، غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، خاندانی کارٹیل اور کھوکھلی اخلاقیات اٹھاؤ اور نکل جاؤ۔ اس ریاست کو اس کے اصل اور سانس لیتے ہوئے مالکان کے حوالے کرو—اساتذہ، کسانوں، انجینئروں، محنت کشوں اور ان لاکھوں نوجوانوں کے حوالے کرو جو یہیں رہتے ہیں، یہیں اپنا خون بہاتے ہیں اور جن کے پاس بھاگنے کے لیے کوئی دوسری پناہ گاہ نہیں۔ یہ قوم ایک بار صفر کی بنیاد پر بنی تھی، اور یہ دوبارہ بنے گی—صاف ستھری، خودمختار اور تم میں سے ایک کے بغیر بھی۔
یہ نوٹس بزدل، بدعنوان اور کم فہم حکمران چوروں کے نام، مجھ ناچیز ریاض لغاری کی طرف سے، پاکستان کے یک عام شہری کی حیثیت سے، میری جان کے صریح خطرے کے مول پر جاری کیا جاتا ہے۔

