ریاست کی بازیابی کا آخری نوٹس
جمہوریت میں ریاست کسی حکمران طبقے کی جاگیر نہیں ہوتی
از: ریاض لغاری
جمہوری ریاستیں ایک نہایت سادہ مگر بنیادی اصول پر قائم ہوتی ہیں: ریاست عوام کی امانت ہوتی ہے۔ حکومتیں اقتدار کی مالک نہیں ہوتیں بلکہ عوام کی طرف سے محدود مدت کے لیے اس کی امین ہوتی ہیں۔ آئین کی روح یہی ہے کہ حاکم بدل سکتے ہیں، لیکن ریاست ہمیشہ شہریوں کی رہتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی سب سے بڑی مشکل صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی نہیں رہی، بلکہ بتدریج ایک آئینی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں لاکھوں پاکستانیوں نے ریاست کو اپنی مشترکہ ملکیت کے بجائے ایک ایسے نظام کے طور پر محسوس کیا ہے جس تک رسائی صرف چند مخصوص حلقوں کو حاصل ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر اقتدار کے مراکز، مراعات کے ڈھانچے اور فیصلہ سازی کے انداز میں بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔
یہی احساسِ بیگانگی پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ ہے۔
ہم مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری، تعلیم، صحت، انصاف، توانائی اور امن و امان کو الگ الگ بحران سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سب ایک ہی بنیادی سوال کی مختلف صورتیں ہیں: ریاست آخر کس کے لیے کام کرتی ہے؟
اگر عام شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ اختیار چند خاندانوں، محدود اشرافیہ، طاقتور مفادات یا بند دروازوں کے پیچھے مقید ہو چکا ہے، تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو بہترین پالیسیاں بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔
یہ کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا کسی ایک ادارے کے خلاف مقدمہ نہیں ہے۔
یہ ایک سیاسی ثقافت کے خلاف سوال ہے۔
جمہوریت اس وقت کمزور نہیں ہوتی جب حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں؛ جمہوریت اس وقت کمزور ہوتی ہے جب اقتدار گردش کرنا چھوڑ دے اور عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ریاست تک رسائی صرف مخصوص طبقوں کا حق ہے۔
ریاست کو دوبارہ عوام کے حوالے کرنے کا مطلب انتقام نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایک اشرافیہ کو ہٹا کر دوسری اشرافیہ بٹھا دی جائے۔
ریاست کی حقیقی بازیابی کا مطلب یہ ہے کہ آئین میں درج وہ وعدہ عملی شکل اختیار کرے جس کے مطابق حاکم
عوام ہیں اور حکومت ان کی امانت دار۔
اس مقصد کے لیے صرف انتخابات کافی نہیں ہوں گے۔
سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت ضروری ہے۔
مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور مالی خودمختاری ملنی چاہیے۔
سرکاری اداروں میں ترقی کا معیار تعلق نہیں بلکہ قابلیت ہونا چاہیے۔
عدالتوں کو بروقت انصاف فراہم کرنا ہوگا۔
جامعات کو آزاد فکر پیدا کرنی ہوگی۔
اور ریاست کو ہر اس نوجوان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کا مستقبل اس کی محنت سے طے ہوگا، نہ کہ اس کے خاندانی پس منظر سے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اقتدار کو ملکیت نہیں بلکہ امانت سمجھنے کی روایت قائم کرنا ہوگی۔
جمہوریت میں کوئی عہدہ موروثی نہیں ہوتا۔
کوئی ادارہ احتساب سے بالاتر نہیں ہوتا۔
کوئی شہری اتنا معمولی نہیں ہوتا کہ اس کی آواز غیر اہم سمجھی جائے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے ایوانوں میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
پاکستان کو آج ایک نئی سیاسی تہذیب کی ضرورت ہے—ایسی تہذیب جس میں اقتدار خدمت کا دوسرا نام ہو، ا
دارے شہریوں کے لیے کام کریں، اور عوام خود کو ریاست کا حقیقی مالک محسوس کریں۔
یہی ریاست کی بازیابی کا آخری نوٹس ہے۔
یہ کسی فرد کے خلاف نہیں۔
یہ کسی جماعت کے خلاف نہیں۔
یہ ایک فرسودہ سیاسی ذہنیت کے خلاف ہے جس نے اقتدار کو حقِ ملکیت سمجھ لیا ہے۔
یہ اعلان کرتا ہے کہ ریاست کسی خاندان، کسی اشرافیہ، کسی بیوروکریسی یا کسی طاقتور گروہ کی جاگیر نہیں۔
ریاست صرف اور صرف پاکستان کے عوام کی ہے۔
آئین بھی یہی کہتا ہے۔
جمہوریت بھی یہی تقاضا کرتی ہے۔
اور پاکستان کا مستقبل بھی اسی اصول سے وابستہ ہے۔

